13 اگست 2018 - 13:42
صہیونی ریاست کا اگلا منصوبہ حماس رہنماؤں پر قاتلانہ حملے

اسرائیلی اخبار’ہاآرتض‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیل چندہ ماہ سے غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) اور دیگر فلسطینی مزاحمتی قیادت کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، عبرانی اخبار نے خبر دی ہے کہ اسرائیلی فوج اور داخلی سلامتی کا خفیہ ادارہ ’الشاباک‘ غزہ کی پٹی میں وسیع پیمانے پر جنگ مسلط کرنے کے بجائے حماس کی مرکزی قیادت کو ٹارگٹ کلنگ میں شہید کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔

تاہم صہیونی ریاست کے تجزیہ نگاروں اور فوج کے ایک طبقے کا خدشہ ہے کہ اگر قاتلانہ حملوں میں حماس کی قیادت کو شہید کرنے کی پالیسی اپنائی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں حماس اور مزاحمت کاروں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آسکتا ہے۔

اخبار نے سینئر اسرائیلی فوجی عہدیداروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ حماس کی قیادت کی ٹارگٹ کلنگ کا پلان کافی آگے بڑھ چکا ہے مگراسرائیل کی سیاسی قیادت کی طرف سے اس پلان کو نافذ کرنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ ۸۰ء کی دہائی میں قائم کی گئی تحریک حماس کو اب تک صہیونی ریاست کی طرف سے متعدد بار اسرائیل کی منظم ٹارگٹ کلنگ کا سامنا رہا ہے۔ سنہ ۱۹۹۶ء میں حماس کے سینیر رہ نما انجینیر یحییٰ عیاش، ۲۰۰۴ء کو عدنان الغول،۲۰۰۲ ء کو صلاح شحادہ، ۲۰۰۴ء کو حماس کے بانی الشیخ احمد یاسین، ۲۰۰۴ء کو ڈاکٹر عبدالعزیز الرنتیسی اور ۲۰۱۲ء کو القسام بریگیڈ کے کمانڈر احمد الجعبری کو قاتلانہ حملوں میں شہید کیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲